خلیجی تنازعات اور پاکستان کی توانائی آزمائش

تیل کے طوفان میں پاکستانی آزمائش

تحریر: محمد محسن اقبال

خلیج کی تاریخ بے پناہ دولت، تزویراتی کشمکش اور بار بار بھڑک اٹھنے والے تنازعات سے عبارت ہے۔ مگر اس خطے میں اٹھنے والی جنگوں اور بحرانوں کی گونج کبھی اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ جب بھی کسی تنازع کے باعث تیل کی پیداوار متاثر ہونے یا سمندری راستوں کی سلامتی خطرے میں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے، اس کے اثرات دنیا کے دور دراز خطوں تک پھیل جاتے ہیں۔ قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں، رسد غیر یقینی کا شکار ہوتی ہے اور میدانِ جنگ سے کوسوں دور معیشتوں کو بھی اس بحران کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

پاکستان بھی بارہا اس صورتِ حال کے اثرات سے دوچار ہوا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان خلیج سے نسبتاً دور ہے، لیکن اس کی معیشت درآمدی تیل اور گیس پر گہرا انحصار رکھتی ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرنے والے لاکھوں پاکستانی وطنِ عزیز کو ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، جو ملک کے لیے زرِ مبادلہ کا ایک نہایت اہم ذریعہ ہیں۔ چنانچہ خطے میں پیدا ہونے والا ہر بڑا بحران پاکستان کے لیے بیک وقت دو باہم جڑے ہوئے چیلنج لے کر آتا ہے: توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ترسیلاتِ زر کے متاثر ہونے کا خطرہ۔

1980ء میں شروع ہونے والی ایران۔عراق جنگ نے پاکستان کی اس کمزوری کی ابتدائی اور واضح تصویر پیش کی۔ ایران اور عراق دونوں بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک تھے، لیکن جنگ نے ان کی پیداواری اور برآمدی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی رسد کم ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستان نے حقیقت پسندانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران اور عرب خلیجی ریاستوں، دونوں کے ساتھ عملی تعلقات برقرار رکھے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کیا۔

تیل کی بلند قیمتوں نے پاکستان کے درآمدی بل پر خاصا دباؤ ڈالا، بالخصوص اس لیے کہ ملک میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت محدود تھی۔ تاہم خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں تیز رفتار اضافے نے معیشت کو ایک اہم سہارا فراہم کیا۔ 1980ء کی دہائی کے آغاز تک ترسیلاتِ زر زرِ مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی تھیں، جنہوں نے تجارتی خسارے کی مالی معاونت اور ملکی طلب کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی تعاون بھی جاری رکھا اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو بھی برقرار رکھا۔

اس بحران نے پاکستان کو یہ سبق دیا کہ سفارتی لچک اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کس قدر اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بنیادی کمزوری بھی آشکار ہوئی: پاکستان توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر حد درجہ انحصار کرتا ہے۔

ایک دہائی بعد اگست 1990ء میں عراق کا کویت پر حملہ پاکستان کے لیے اس سے بھی زیادہ سنگین آزمائش بن کر سامنے آیا۔ عالمی منڈی سے عراقی اور کویتی تیل کی برآمدات تقریباً غائب ہو جانے کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ پاکستان اس بحران سے خصوصی طور پر متاثر ہوا کیونکہ کویت اس کے لیے پٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم فراہم کنندہ تھا۔

اسلام آباد کو سعودی عرب، ایران، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی کوشش کرنا پڑی۔ تیل کا درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ گیا، زرِ مبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ میں آگئے اور کویت سے آنے والی ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہوئیں۔ اگرچہ بعد ازاں خلیج کی دیگر ریاستوں نے اس نقصان کے بڑے حصے کی تلافی میں مدد فراہم کی، لیکن اس بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے واضح کردی کہ خلیج میں رونما ہونے والے واقعات کتنی تیزی سے پاکستان کے لیے معاشی ہنگامی صورتِ حال اختیار کرسکتے ہیں۔

حکومت نے ابتدا میں یہ کوشش کی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ ملکی صارفین پر منتقل نہ کیا جائے، لیکن اس پالیسی کے نتیجے میں قومی خزانے پر دباؤ بڑھتا گیا۔ ہنگامی بنیادوں پر تیل کی خریداری، قلیل مدتی مالی انتظامات، سفارتی کوششیں اور ادائیگیوں میں سہولت جیسے اقدامات ناگزیر ہوگئے۔ بالآخر جنگ کے خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں کمی نے کچھ سکون فراہم کیا، لیکن بنیادی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہی: پاکستان کی معیشت خلیج کے عدم استحکام اور سمندری توانائی کے راستوں میں کسی بھی خلل کے لیے غیر معمولی حد تک حساس ہے۔

2003ء میں عراق پر امریکی حملے نے نسبتاً کم شدت کا معاشی جھٹکا پیدا کیا۔ عراق کی تیل کی برآمدات پہلے ہی پابندیوں کے باعث محدود تھیں، اس لیے رسد میں فوری کمی 1990ء کے بحران جتنی ڈرامائی نہیں تھی۔ اس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا، جس سے پاکستان کی درآمدی لاگت بڑھ گئی۔

اس مرتبہ پاکستان 1990ء کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں قدرے بہتر تیاری کے ساتھ موجود تھا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آچکی تھی، جبکہ نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات نے اضافی مالی اور سفارتی معاونت بھی فراہم کی۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نسبتاً بروقت ردوبدل کیا۔ اگرچہ معیشت کو توانائی کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اس شدید زرِ مبادلہ کے بحران سے محفوظ رہی جس کا سامنا گزشتہ خلیجی تنازع کے دوران ہوا تھا۔

آج بھی، تاہم، بنیادی کمزوری بڑی حد تک برقرار ہے۔ ایران، امریکہ یا خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان سنگین تصادم نے آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ پیدا کر دیا  ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان اپنے خام تیل اور ایل این جی کی فراہمی کے لیے اس راستے پر نمایاں حد تک انحصار کرتا ہے۔ اس راستے میں طویل تعطل قومی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرسکتا ہے۔

اس کے اثرات محض پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہیں گے۔ زراعت میں مشینری، آب پاشی اور نقل و حمل کے لیے ڈیزل درکار ہے۔ صنعت کو پیداوار جاری رکھنے کے لیے قابلِ برداشت قیمت پر توانائی چاہیے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات خوراک اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے یا رسد میں خلل سے بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ بالآخر اس بوجھ کا بڑا حصہ عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے—بڑھے ہوئے سفری کرایوں، مہنگی خوراک اور گھریلو اخراجات کی صورت میں۔

پاکستان کی کمزوری اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی ٹیکس، لیویز، ڈیلر مارجن اور دیگر مختلف چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔ یوں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہونے والا اضافہ بہت تیزی سے ملک کے اندر ایک وسیع تر مہنگائی کے بوجھ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان نے ماضی میں ہنگامی بنیادوں پر تیل کی خریداری، سفارتی توازن، دوست ممالک کی معاونت اور اندرونِ ملک قیمتوں میں ردوبدل کے ذریعے ایسے بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ اقدامات وقتی ریلیف تو فراہم کرسکتے ہیں، لیکن طویل المدتی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں بن سکتے۔

پاکستان کو اس لیے ایک جامع توانائی تحفظ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ تیل اور گیس کی درآمد کے ذرائع متنوع بنائے جائیں، اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کو مضبوط کیا جائے اور ملک میں ریفائنری کی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے وسعت دی جائے۔ قابلِ اعتماد پیداوار کنندگان کے ساتھ طویل المدتی سپلائی معاہدے کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی توانائی، بالخصوص شمسی اور پن بجلی میں سرمایہ کاری کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔ ملک میں پیدا ہونے والی توانائی کا ہر اضافی یونٹ ہمیں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ایک قدم مزید محفوظ بناتا ہے۔

سفارت کاری بھی اسی قدر اہم ہے۔ پاکستان کو ایران، سعودی عرب، امریکہ اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے چاہییں، لیکن دوسروں کی باہمی رقابتوں میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز قومی معاشی مفادات، توانائی کی مسلسل فراہمی اور بیرونِ ملک روزگار کمانے والے لاکھوں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے۔

خلیج آئندہ بھی تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم خطہ رہے گی اور وہاں وقتاً فوقتاً عدم استحکام کے بادل منڈلاتے رہ سکتے ہیں۔ پاکستان نہ تو اپنی سرحدوں سے باہر ہونے والے تنازعات کو روک سکتا ہے اور نہ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔ البتہ وہ یہ ضرور کرسکتا ہے کہ ایسے واقعات کو اپنی معاشی تقدیر کا فیصلہ کن عامل بننے سے روک دے۔

گزشتہ چار دہائیوں کا سبق بالکل واضح ہے: توانائی کا تحفظ ہی قومی سلامتی ہے۔ توانائی کے متنوع ذرائع، وافر ذخائر، جدید ریفائنریاں، قابلِ تجدید توانائی، دانش مندانہ معاشی نظم و نسق اور متوازن سفارت کاری پاکستان کو زیادہ مضبوط اور بحرانوں کے مقابل زیادہ باصلاحیت بنا سکتی ہے۔

خلیج کے افق پر طوفان کے بادل شاید آئندہ بھی جمع ہوتے رہیں۔ پاکستان ان طوفانوں کو روک نہیں سکتا، مگر وہ اپنی بنیادیں اتنی مضبوط ضرور بنا سکتا ہے کہ دور کہیں اٹھنے والا ہر بحران وطنِ عزیز میں معاشی طوفان بن کر نہ اترے۔

Related posts

Leave a Comment